ایران فی الحال جوہری پروگرام بند کرنے پر تیار نہیں! مسعود حسین جعفری
ایران نے امریکا کو اپنے مطالبات بھیجے ہیں، جن میں جارحیت کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا شامل ہے۔ابھی تک ایران نے امریکی مطالبات پر اپنا جوہری پروگرام مکمل بند کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ تازہ صورتحال کچھ یوں ہے امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ سامنے آیا ہے جس میں اہم مطالبات یہ ہیں۔جوہری پروگرام کا خاتمہ نطنز، اصفہان اور فردو کی تنصیبات ختم کرنا یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی پہلے سے افزودہ یورینیم IAEA کے حوالے کرنا، اور ملک کے اندر افزودگی نہ کرنا۔میزائل پروگرام میں کمی اور علاقائی گروپوں کی حمایت ختم کرنا۔آبنائے ہرمز کھولنا۔ٹرمپ نے واضح کہا ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے۔ اور ایران کا موقف یہ ہے کہ ایران نے مکمل انکار نہیں کیا مگر شرائط سخت ایران نے امریکی شرائط کو غیر معمولی حد سے زیادہ قرار دیا ہے۔جوہری پروگرام پر بات بعد میں ایران نے نئی پیشکش کی ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے بات ہو، لیکن جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے۔جوابی مطالبات میں ایران نے امریکا کو اپنے مطالبات بھیجے ہیں، جن میں جارحیت کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا شامل ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ یورینیم افزودگی یا جوہری مواد سے متعلق مذاکرات کی خبریں "محض قیاس آرائیاں ہیں"۔ ایران کی توجہ صرف جنگ کے خاتمے پر ہے۔دونوں فریق بات کر رہے ہیں، مگر بڑا فاصلہ باقی ہے۔امریکا کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے امریکا سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران پر دباؤ ہے تاکہ وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے۔اس پر ایران کا جواب ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان نے امریکی تجویز کو امریکی خواہشات کی فہرست کہا اور واضح کیا کہ واشنگٹن جو چیزیں دو بدو ملاقات میں حاصل نہیں کرسکتا وہ اُسے ہاری ہوئی جنگ سے نہیں ملیں گی۔4 مئی 2026 کو ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی تجویز زیر غور ہے، لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکا کے "غیر معمولی مطالبات" کی وجہ سے جائزہ لینا آسان نہیں۔ایران فی الحال جوہری پروگرام بند کرنے پر تیار نہیں۔ وہ جوہری مسئلے کو جنگ بندی سے الگ رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ دونوں میں مذاکرات چل رہے ہیں اور پاکستان ثالثی کر رہا ہے، لیکن کسی فوری معاہدے کا امکان کم ہے۔

Comments
Post a Comment
Any