کیا اسلام آباد ایکارڈ اپنے اہداف پر گامزن ہے ؟ مسعود حسین جعفری
پاکستانی ذرائع کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے، وہ کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہے۔تازہ ترین صورتحال کے لحاظ سے ایک صفحے کی یادداشت پر معاہدہ Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت پر معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں تاکہ جنگ ختم کی جا سکے اور مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کا فریم ورک طے ہو ایران نے امریکہ کو اپنی 14 نکاتی تجویز پاکستان کے ذریعے پہنچائی۔امریکہ نے بھی پاکستان کے ذریعے ایران کی تجویز کا جواب بھیجا ہے۔پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ساری رات رابطے میں رہے۔
اس ڈیل کو عارضی طور پر اسلام آباد ایکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے۔معاہدے کے اہم نکات میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔جبکہ ایران کی شرائط کے مطابق 30 دن کے اندر تمام مسائل حل کرنا، امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثے بحال کرنا، اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہیں۔دوسری جانب امریکی شرائط ایران کا جوہری افزودگی پر پابندی، امریکہ کا پابندیاں ہٹانا اور اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنا شامل ہیں۔لیکن فریقین کا ٹائم لائن پر اختلاف ہے امریکہ 45-60 دن کی جنگ بندی چاہتا ہے، جبکہ ایران 30 دن میں مکمل معاہدہ چاہتا ہے۔پھر بھی حتمی صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے اور ایران سے 48 گھنٹے میں جواب کی توقع ہے، لیکن حکام نے خبردار کیا کہ ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن شکوک کا اظہار کیا۔ یہ مذاکرات اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا تسلسل ہیں۔ پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

Comments
Post a Comment
Any