ایران کے خلاف جارحیت اور یک طرفہ اقدامات ! مسعود حسین جعفری
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی کا یہ بیان حالیہ امریکہ-اسرائیل-ایران تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ قانونی بنیاد مسترد امریکہ کا اجتماعی دفاع یا "self-defense" کا جواز بے بنیاد ہے، کیونکہ ایران نے کوئی مسلح حملہ نہیں کیا تھا جوابی کارروائی کا جواز بنتا۔جارحیت قرار دیا باقائی کے مطابق یہ کارروائی دفاع نہیں بلکہ ایران کے خلاف جارحیت کا عمل اور یکطرفہ قدم ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ان کا اشارہ یہ ہے کہ امریکہ کے خلیجی اتحادی بھی جانتے ہیں کہ قانونی جواز نہیں ہے۔ یہ بات ایسے وقت میں کہی گئی جب UAE نے اپنے شہریوں پر ایران سفر پر پابندی لگائی اور UAE کے مشیر انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے یکطرفہ انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ بیان 28 فروری سے شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے بعد آیا ہے جس میں امریکہ-اسرائیل نے تہران پر حملے کیے اور 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی۔ امریکہ کا موقف ہے کہ وہ اسرائیل کی درخواست پر "اجتماعی دفاع" میں شامل ہوا، جسے ایران یکسر مسترد کر رہا ہے۔تو خلاصہ یہ کہ ایران اسے "قانونی جنگ" نہیں بلکہ "غیر قانونی یکطرفہ جارحیت" قرار دے کر سفارتی اور قانونی محاذ پر امریکہ کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Comments
Post a Comment
Any