ائ اہم ایف کی شرائط کا سیاسی قیمت والا حصہ عام آدمی ادا کرتا ہے، جبکہ سیاسی سرمایہ والا حصہ اشرافیہ بچا لیتی ہے! مسعود حسین جعفری



آئی۔ایم۔ایف کے پروگراموں کا بوجھ عام پاکستانی پر پڑتا ہے جبکہ اشرافیہ پر چیک اینڈ بیلنس کمزور ہے پاکستان میں یہ رائے کافی عام ہے. اس کے مختلف پہلو ہیں۔ ای ایم ایف کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے معاہدہ کرتا ہے عوام نہیں ان کی شرائط میں یہ نکات شامل ہوتے ہیں ٹیکس نیٹ بڑھانا زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹرز پر ٹیکس لگانا. یہی وہ کاروبار ہیں جہاں حکمران اور اشرافیہ کا پیسہ لگا ہے۔سبسڈی ختم کرنا بجلی، گیس، پٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی کا مطالبہ، تاکہ صرف غریب کو ریلیف ملے اخراجات میں کٹوتی غیر ترقیاتی اخراجات، سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنا گورننس کرپشن، منی لانڈرنگ اور سرکاری اداروں میں شفافیت پر رپورٹس مطلب کاغذ پر IMF کی شرائط اشرافیہ کو بھی ٹچ کرتی ہیں. 2023-2024 کے پروگرام میں تاجروں، زمینداروں پر ٹیکس کا مطالبہ اسی لیے شامل تھا.تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ مسئلہ IMF کی پالیسی نہیں، پاکستان میں اس کے نفاذ کا ہے۔حکومت آسان ہدف یعنی GST، پٹرول لیوی، بجلی کے بلوں سے پیسہ پورا کرتی ہے. اس کا براہ راست بوجھ تنخواہ دار اور غریب طبقے پر پڑتا ہے ۔طاقتور لابیز زراعت پر انکم ٹیکس، ریئل اسٹیٹ کی اصل قیمت پر ٹیکس، ریٹیلرز کو POS پر لانا. یہ اقدامات اسمبلی سے پاس کرانا سیاسی طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں ہی بڑے زمیندار اور کاروباری لوگ بیٹھے ہیں۔پاکستان 1958 سے اب تک 24 IMF پروگرام لے چکا ہے. بار بار پروگرام میں جانا، پھر ادھورا چھوڑنا. اس لیے لگتا ہے کہ ہر بار وہی نسخہ عام آدمی پر آزمایا جاتا ہے۔چیک اینڈ بیلنس کا معاملہ آئی ایم ایف کے پاس حکومت گرانے یا قانون بنانے کا اختیار نہیں. وہ صرف قرض کی قسط روک سکتا ہے. اگر حکومت اشرافیہ پر ٹیکس لگانے کے بجائے بجلی مہنگی کر کے ہدف پورا کرے، تو IMF تکنیکی طور پر مطمئن ہو جاتا ہے کیونکہ ریونیو ہدف پورا ہو گیا. اس لیے یہ تاثر بنتا ہے کہ آئ ایم ایف کی شرائط کا سیاسی قیمت والا حصہ عام آدمی ادا کرتا ہے، جبکہ سیاسی سرمایہ والا حصہ اشرافیہ بچا لیتی ہے۔نتیجہ مسئلہ صرف IMF کا نہیں، "پالیسی اور عملدرآمد کے گیپ" کا ہے. IMF فنڈ دیتے وقت کہتا ہے امیر سے ٹیکس لو مگر پاکستان کا نظام اسے غریب سے وصولی میں بدل دیتا ہے. جب تک ٹیکس بیس اخراجات اور احتساب کا نظام نہیں بدلے گا، یہ شکایت برقرار رہے گی۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری