یونیورسٹی روڈ ،بار بار ڈیزائن بدلنے پر ادارے ناخوش, ADB کا قرضہ 2022 میں شروع ہوا تھا



یونیورسٹی روڈ کے معاملے پر ورلڈ بینک اور دیگر اداروں نے بھی تحفظات اٹھائے ہیں مگر کرپشن پر براہِ راست کم، اور تاخیر + پلاننگ پر زیادہ۔اگر ورلڈ بینک کا کردار دیکھا جائے تو ریڈ لائن BRT میں ورلڈ بینک براہِ راست فنڈنگ نہیں کر رہا۔ یہ منصوبہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک ADB کے 79 ارب روپے کے قرض سے بن رہا ہے۔البتہ ورلڈ بینک Yellow Line BRT میں مدد کر رہا ہے، اور اسی لیے سندھ حکومت نے Red Line کی تاخیر پر کہا کہ ہم ورلڈ بینک کی مدد سے دن رات کام کر رہے ہیں۔ یعنی ورلڈ بینک کو اس پورے BRT نیٹ ورک کی ساکھ کی فکر ہے۔ اب کن اداروں نے اعتراض اٹھایا؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی  50% کام مکمل ہونے کے بعد CAA نے پورے ڈیزائن پر اعتراض کر دیا اور اسے دوبارہ بنوانے کا کہا۔ اسی وجہ سے پروجیکٹ 2026 تک مزید لیٹ ہو گیا۔ وزیر شرجیل میمن نے اس پر شدید ناراضگی ظاہر کی۔سندھ ہائی کورٹ SHC عدالت نے 5 مئی 2026 کو شدید تشویش ظاہر کی کہ یونیورسٹی روڈ اب تک نامکمل ہے۔ عدالت نے کہا پورے لائف اسپین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یوٹیلیٹی ادارے PTCL اور K-Electric نے لائنز شفٹ کرنے کے کروڑوں روپے مانگ لیے جس سے کام رکا۔ KWSC نے بھی Red Line کمپنی کو 3.5 کروڑ کا بل بھیجا کیونکہ ان کی لائن لیک ہو گئی تھی۔ کرپشن پر بین الاقوامی ردعمل؟ ابھی تک ورلڈ بینک یا ADB نے کھل کر کرپشن کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ مگر تاخیر، لاگت بڑھنے، اور بار بار ڈیزائن بدلنے پر دونوں ادارے ناخوش ہیں۔ ADB کا قرضہ 2022 میں شروع ہوا، منصوبہ 2025 میں مکمل ہونا تھا، اب 2028 تک چلا گیا ہے۔ یہاں ٹھیکیدار کا یہ موقف ہے ٹھیکیدار نے عدالت میں کہا کہ بار بار ڈیزائن بدلنا اور منظوری میں تاخیر اصل وجہ ہے، اور عوام کو غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ صرف کنٹریکٹر ذمہ دار ہے۔ ورلڈ بینک نے براہِ راست کرپشن کا الزام نہیں لگایا، کیونکہ یہ ADB کا پروجیکٹ ہے۔ مگر CAA، سندھ ہائی کورٹ، KWSC، اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کے اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ ADB کے لیے لاگت کا بڑھنا اور 6 سال کی تاخیر یقیناً "ریڈ فلیگ" ہے، اسی لیے اب FWO کو کام دیا گیا ہے۔ 15bc

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری