واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری
مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ 2 سال میں واٹر بورڈ کی ماہانہ آمدنی میں 65% اضافہ ہوا واٹر بورڈ کا عملہ واقعی کراچی کے شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن KW&SC میں بھاری تنخواہوں اور مراعات پر 11 پرائیوٹ افسران تعینات کیے گئے ہیں جنہیں ماہانہ سوا کروڑ روپے سے زائد تنخواہ دی جا رہی ہے۔ ان میں چیف انفارمیشن آفیسر، چیف فنانشل آفیسر، چیف ہیومن ریسورسز آفیسر وغیرہ شامل ہیں۔مگر اس کے باوجود کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے ماہانہ ریکوری 2 ارب 60 کروڑ روپے سے گر کر 1 ارب 99 کروڑ پر آگئی یعنی 60 کروڑ روپے کی کمی۔ رپورٹ کے مطابق یہ افسران ادارے کی بہتری کے بجائے ادارے پر بھاری مالی بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔شہریوں پر بوجھ بلوں میں اضافہ اگست 2024 میں واٹر بورڈ نے سیوریج بلوں میں 14% اور پانی کے نرخوں میں 9% یعنی مجموعی 23% اضافہ کر دیا۔پانی کی قلت واٹر کارپوریشن کے CEO نے خود اعتراف کیا کہ اس وقت کراچی کے 70% علاقے کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔غیر قانونی ہائیڈرنٹس 245 سے زائد غیر قانونی ہائیڈرنٹس گرائے جا چکے ہیں، لیکن پھر بھی ٹینکر مافیا کا مسئلہ برقرار ہے۔واٹر بورڈ کے ...










Comments
Post a Comment
Any