دستور پاکستان 1973 کی پامالی
دستور پاکستان یا آئین پاکستان 1973 کی کھلی خلاف ورزی
کی بات کی جائے یا بے دردی سے آئین شکنی کی بات کی جائے تو سب سے پہلے سیاسی آمریت کا کرادار مشکوک نظر آتا ہے جو بات تو آئین و قانون کی کرتے ہیں لیکن پس پردہ اسی آئین و قانون کی بری طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہوتی ہیں بالخصوص جب بات شہریوں کے بنیادی حقوق کی آتی ہے تو افسوسناک صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے۔ 1973 آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی ایک دلچسپ فہرست شامل ہے
۔
یہ حقوق شہریوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کرتے ہیں اور ہر قسم کے خدشات اور خطرات سے بے نیاز کرتے ہیں۔ ان حقوق کو استعمال کرتے ہوئے ایک خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔ آئین کے مطابق قائم ہونے والی عدالتیں حقوق کے تحفظ کا زمہ لیتی ہیں اگر کوئی حق تلفی ہو تو شہری عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور جج یا منصف اسے حق کے حصول میں معاونت کرتا ہے۔
اتفاق سے آئین میں حقوق کا اندراج شہریوں کے لیے بہت حوصلہ بخش ہوتا ہے۔ شہری اس امداد کو اپنے وجود کا تحفظ سمجھتے ہیں اور ہر ظلم و زیادتیوں سے محفوظ سمجھتے ہیں۔
آئین کیونکہ عام قانون سے بالاتر ہوتا ہے اور انتظامیہ کے قابو یا بس میں بھی نہیں ہوتا ۔ تاکہ انتظامیہ آئینی حدود کو نہ پھلانگ سکیں اس لیے آئین میں موجود حقوق بہر طور عوام کو ملتے رہتے ہیں۔
آئین کے مطابق عوام کے بنیادی حقوق کو کوئ ادارہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ البتہ اگر ملک کو اندرونی خلفشار یا بیرونی خطرات ہوں تو انتظامیہ ان مخصوص حالات میں بنیادی حقوق کو عبوری طور پر معطل کر سکتی ہے۔ یہ حقوق صرف ہنگامی صورتحال میں معطل رہتے ہیں اور جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں آئین اور اس کے تحت
ملنے والے حقوق بحال ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے آئین 1973 کو زیادہ جمہوری شکل دینے کے لیے دستور ساز اسمبلی نے زیادہ سے زیادہ حقوق شہریوں کے لیے مختص کر دیے ہیں دستور کی 22 دفعات صرف بنیادی حقوق سے بحث کرتی ہیں یہ دفعات 7 سے 28 تک ہیں جس کی ہر گزرنے والے لمحات میں کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر حقوق غضب کیے جاتے ہیں۔



Comments
Post a Comment
Any