سیاسی خاندانوں کی آمریت کا خاتمہ ضروری ہے
متنازع سیاسی نظام کی تدفین انتہائی ضروری ہے۔
امور سلطنت میں نظم و ضبط اصول قانون آئین مرکزی کردار ہیں جس کے تحت کار ہائے سلطنت سر انجام دیئے جاتے ہیں صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے اپنے اپنے مذہبی فرائض و مذہبی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ان قوانین کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور کمی کو دور کرنے اسے سنوارنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ یہ اس لیے کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا جب تک انسانی معاشرہ قائم و دائم ہے ترقی کی منازل اسی نقظہ کے تحت طے کی جائیں گی۔ ایک مثالی فلاحی ریاست کی بنیاد ہی دراصل انسانیت ( ہیومنٹی) پر رکھی گئی ہے کیونکہ انسانیت کو پہلی ترجیح و مقدم رتبہ حاصل ہے اس نقظہ کو بنیاد سمجھ کر ہی قوانین ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ ان قوانین میں ریاست کے تمام ستون کو ایک مخصوص دائرے کے تحت اپنی اپنی زمہ داریاں پرخلوص و وفاداری سے سر انجام دینے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر مخصوص تربیت سے ایک لمحے کے لیے قطعہ نظر بھی کر لیا جائے تب بھی وفاداری خلوص اخلاق قربانی کے جذبات پیدائشی طور پر خون میں شامل ہوتے ہیں جو تمام امور کی پاسداری کرتے ہیں۔
اقربا پروری مفاد پرستی فلاحی قوانین کو مخصوص طبقہ کے طابع ہونا یا کر دینا مخصوص طبقہ کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے قانونی دائرہ سے بچنا یا بچانا دراصل انسانیت کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی انتہائی تذلیل کے زمرے میں آتا ہے جس سے ریاست معاشرہ سب کی جڑیں کھوکھلی ہوکر رہ جاتی ہیں اسے صرف معاشرتی برائی ہی نہیں بلکہ مذہبی اقدار کی کھلی نفی بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
ماضی بعید سے ثابت ہوچکا ہے کہ زوال سلطنت کے عوارض و اسباب بھی یہی ہیں۔ اس کے علاؤہ ایسے خاندان جو ملوکیت شخصی جبر و تسلط کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتدارِ حاصل تو کرلیتے ہیں اور طویل مدت تک اقتدار میں رہتے ہوئے بھی جاہ و جلال و مرتبہ کے خاتمے کے بعد ہر طرح سے استثنیٰ کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
عرض پاک میں قوانین کا شاندار ہونے میں کوئ ابہام یا شکوک نہیں لیکن عمل ندارد۔ وجوہات پر بحث ایک لاحاصل گفتگو کے سوا کچھ نہیں۔ ہاں یہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ علم سیاست پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے ریاست کی تعمیر کے لیے علم سیاست کا وہ بوسیدہ و تعفن زدہ نظام جو ہم دیکھ رہیں ہیں انتہائی مہلک و تباہ کن ہے اس غیر متوازن و متنازع سیاسی نظام کی تدفین کے لیے غیر جانبدار محققین قانونی و معاشی ماہرین کو خصوصی طور پر آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments
Post a Comment
Any