غیرت کا تقاضا

 

عرض پاک میں یہ بڑی غلط روایت فروغ پا چکی ہے کہ اہلیت و قابلیت نہیں ہے مسائل کا کوئ حل نہیں مگر کرسی سے چمٹ کر رہنا گویا حق ہے بے شک ملک و قوم تباہ ہو جائے لیکن اقتدار سے ازخود عزت سے اپنی نااہلی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے علیحدہ ہونا شاید گناہ کبیرہ میں سے تصور کیا جاتا ہو۔
پی۔ڈی۔ایم نے جس روز سے شب خون مارا ہے اور اغیار کے ہاتھوں اپنی بولی لگوائے اس مذموم حرکت کے اثرات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔
عرض پاک میں سیاستدانوں کی جس طرح تقسیم موجود ہے شاید دیگر ممالک میں نہ ہو۔ پاکستانی سیاستدانوں کی اکثریت بیرونی چھتری کی تلاش میں سرگرداں و سرگرم دیکھائی دیتی ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں دیکھا یہ جاتا ہے کہ کس کیمپ کی افادیت زیادہ ہے اور کس کیمپ کی طاقت انہیں زیادہ سے زیادہ اقتدار میں رکھنے کی خواہشمند ہے۔ قومی مفادات سے بہرمند ہونے کے بجائے ذاتی وفاداری کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ طاقت رکھنے والے کو کھل کر سجدے کرنا گویا ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنا تصور کیا جاتا ہے۔
اتفاق سے سابقہ حکومت عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے کیمپ میں جا بیٹھی جس کو یہ بات گوارا ہی نہ تھی کہ پاکستان میں خوشحالی ہو یا پاکستانی آزادانہ طور پر سامنے ائیں۔ پاکستان کو تین اطراف سے بہترین سپورٹ مل رہی تھیں جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوسکتا تھا پاکستان خودمختاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔
رجیم چینج کے لیے خرید وفروخت کھل کر کی گئ زر خرید مشینوں پر بھرپور پیسہ خرچ کیا گیا اور ملک و قوم کو ایک بار پھر اندھیرے گڑھے میں پھینک دیا گیا اور اب صورتحال سب کے سامنے ہے کہ رجیم چینج سے پیدا ہونے والے اثرات ملک و قوم کو لے ڈوبے۔ ذاتی مفادات کے لیے اقتدار حاصل کرنے والے بھاری رقومات کے آگے ڈھیر تو ہوگئے مگر ذلت ان کا مقدر بن گئ نہ صرف ان کا بلکہ ان کے سہولت کاروں کا بھی یہی حال ہوا۔ اگر فوری عام انتخابات کا اعلان نہیں کیا جاتا تو پھر سمجھ لینا چاہے کہ چاروں اطراف میں تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے اور اتنی زیادہ سیاسی جماعتوں کا غیر فطری اتحاد بھی خود ان کے گلے پڑ چکا ہے جس کا خمیث بھی آئندہ آنے والے عام انتخابات میں لازمی بھگتنا ہوگا۔

Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری