ذخیرہ اندوزی کا بڑھتا رجحان

 

عرض پاک میں ذخیرہ اندوزی ملی بھگت رشوت اور کرپشن منظم طریقے سے کی جاتی ہے جس کا نہ تو کوئی حل ہے اور نہ ہی کسی قسم کا سدباب دیکھائی دیتا ہے۔ اس مکروہ کاروبار میں کون کون ملوث پایا جاتا ہے یہ بھی سرسری تحقیق کے ذریعے سامنے آجاتاہے اس کے لیے کسی قسم کی گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں۔
حال ہی میں تجربہ کار جماعت کی نوزائیدہ حکومت وجود میں لایا گئ یا دریافت کی گئی جبکہ صوبہ سندھ میں پچھلے 15 برس سے ہم ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے بالکل تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔
سرکاری اداروں کی جانب سے رشوت ستانی کرپشن لاپرواہی نااہلی اور سیاسی اثرورسوخ اس قدر رج بس گیا ہے جس کی وجہ سے اندوز عناصر طبقہ بڑے اطمینان کے ساتھ سرکاری چھتری کا استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب کی منازل سکون سے طے کر لیتا ہے اور رہے عام صارفین اپنی خون پسینے کی کمائی لٹا کر رونے پیٹنے اور اظہار بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ جاتا ہے یا زیادہ سے زیادہ بد دعائیں کر کے خاموش ہو جاتا ہے۔
انتقال اقتدار جو گہری غیر ملکی سازش کے تحت عمل میں آیا اس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کو کھل کر مال و زر جمع کرنے اور تجوریاں بھرنے میں مزید آسانی ہوئ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ اشیاء خرد و نوش پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے جس سے عام صارف ہی متاثر ہوتا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں کی اولین ترجیح انتہائی ضروری اور پہلے سے تیار شدہ اشیاء کو گوداموں میں بند کر کے مصنوعی بحران پیدا کرنا ہوتا ہے اس مکروہ فعل میں ارباب اقتدار و اختیار کو اکثر خاموش رہتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
انتہائی ضروری اشیاء جو اچانک نایاب ہوجاتی ہیں ان میں سب سے زیادہ فوقیت آٹا چینی ڈالیں گھی تیل وغیرہ کو حاصل ہے۔ خوردنی تیل گھی وغیرہ بنانے والی بڑی بڑی کمپنیاں اس سیاسی چپقلش اور عجیب صورت حال سے بھر پور فایدہ اٹھاتی ہیں۔ جس میں ملک کی بڑی بڑی مشہور کمپنیاں شامل ہیں حبیب ائل، میزان، ایوا، لو، ڈالڈا، کسان، نایاب وغیرہ اس کے علاؤہ متعدد غیر معروف کمپنیاں ایسی ہیں جو غیر معیاری گھی تیل مارکیٹ میں پھیلا چکیں ہیں لیکن یہ بھی اضافی منافع کمانے میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔
تیل گھی آٹا چینی فروخت کرنے والے سرمایہ داروں کا طریقہ کار بہت واضح ہے یہ عموماً تیار شدہ مال گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور جب ملک میں قلت پڑتی ہے تو وہی پرانی تاریخوں میں تیار شدہ مال مارکیٹ میں مہنگے داموں بھاری شرح منافع کے ساتھ لایا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں دکاندار اور عام ضرورت مند صارف کو لڑتے جھگڑتے بھی دیکھا گیا معلومات کرنے پر انکشاف ہوا کہ صارفین کے لیے گھی تیل کے پیکٹس پر پرانی تواریخ درج  ہیں جبکہ فروخت اس درج شدہ قیمت سے کئ گنا بڑھا کر وصولی کی جارہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اول تو دکانوں پر گھی تیل دستیاب ہی نہیں اور جب دستیاب ہوا تو قیمت میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ قیمت وہی پرانی والی درج ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گھی تیل کی قیمت زیادہ وصول کرنے کے لیے دانستہ قلت پید کی گئ۔ یہ عوام کے ساتھ دو طرفہ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔
جبکہ دکانداروں کا موقف بھی واضح ہے کہ کمپنی پہلے تو مال دے ہی نہیں رہی اور اب مال آیا ہے تو اضافی قیمت کے ساتھ آیا ہے اور قیمت وہی پرانی درج ہے اس پر ہم دکاندار بھلا کیا کرسکتے ہیں یہ تو سرکاری اہلکاروں کا کام تھا کہ ذخیرہ اندوزوں کو قانونی کی گرفت میں لائیں اور انہیں پکڑیں کہ پرانا مال نئ قیمت پر کیوں سپلائ کیا جارہا ہے۔
عام صارفین اس مکروہ کاروبار کا زمہ دار حکومتوں کو ٹھہراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ زمہ داروں اور اہل کاروں کی ملی بھگت ہے اس 
مکروہ فعل کو فروغ حاصل ہوا۔


Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری