سیاسی آمروں کا غیر فطری اتحاد
خاندانی قبضہ مافیا کا اتفاق و اتحاد
اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے اثرات سامنے آ چکے ہیں سابقہ حکومت پر جو تنقید کی جارہی تھی آج وہی کار ہائے نمایاں انجام دینے پر مجبور و لاچار زبردستی کے حکمراں دلائل دینے کے لیے رات دن ایک کررہے ہیں۔
راقم الحروف پہلے بھی اس غیر فطری ملوکی اتحاد پر بہت کچھ احاطہ تحریر میں لا چکا ہے جو کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس غیر فطری اتحاد میں جس بات پر اتفاق ہے وہ کرپشن اختیار و اقتدار اپنی نسل کے لیے مخصوص کرنا ہے اور ایسے قراردادیں و قوانین وجود میں لانا ہے جس کی بدولت اپنے خاندان برادری و نسل کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوسکے۔
اس گھمبیر صورتحال میں نااہل نالائق غیر قانونی اور کے پالک زبردستی کے افراد کسی صورت قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے اس کی وجہ ان کا داغدار ماضی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہ تو ملک میں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں کہ ایک طویل مدت تم اقتدار میں رہنے والے صرف اپنی ذات پر توجہ دیتے رہے اور دنیا کی آسائشوں کے حصول کی خاطر ملک و قوم کو لوٹتے رہے بلکہ ظلم بھی ڈھاتے رہے۔
اسے ایک نہ بھلائے جانے والا سانحہ ظلم یا بڑا حادثہ ہی تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایسے ملزمان کو ملک کی سربراہی دی گئ جو جرائم پیشہ تھے اور جن افراد کو جیل میں ہونا چاہیے تھا ان کے جرائم کی پردہ پوشی کی گئ اسے بھی عوام کے ساتھ ظلم اور ملک کے ساتھ زیادتی ہی کہا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment
Any