شہر قائد میں تعلیم فروشی
تحریر: مسعود حسین جعفری
مضافاتی علاقوں میں نجی تعلیم فروش لوٹ مار کرنے میں سرگرم۔
ڈائریکٹر پرائیویٹ ایجوکیشن سندھ اور وزیرتعلیم سندھ کی نااہلی نے نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔
پاکستان میں اسکولوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔
خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں خراب عمارتوں میں نجی اسکول قائم کئے گئے ہیں جہاں بچوں کو معمولی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے تمام اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے جس پر آج بھی عمل کیا جارہا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ 28ستمبر سے پرائمری تعلیم کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر جاری کیا جا سکے۔
نجی تعلیمی اداروں نے عدلیہ کے احکامات کی خلافِ ورزی کرتے ہوئے بچوں کے والدین سے فیس وصولی کا سلسلہ بھی اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر ماہ کی پوری فیس باقاعدگی سے وصول کی جارہی ہے۔
والدین نے تحریری شکایات بھی جمع کرائ ہیں مگر حکومت اس سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہے اور والدین پریشان ہورہے ہیں۔
بعض نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں یہ بھی اطلاعات موصول ہوئ ہیں کہ انہوں نے والدین کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر فیس نہ جمع کروائ اور اسکول سے کتابیں نہ خریدیں تو بچوں کا مستقبل خراب کردیا جائے گا۔
خاص طور پر حکومت سندھ تعلیم کے سلسلہ میں انتہائ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے۔
ڈائریکٹر پرائیویٹ ایجوکیشن سندھ اور وزیرتعلیم سندھ کی نااہلی نے نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔
وزیر تعلیم سندھ جنہیں تعلیمی سلسلہ میں کسی قسم کا کوئ تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی تعلیمی نظام سے واقف ہیں۔ وزیرتعلیم سندھ کی غیر سنجیدگی نے سندھ کا تعلیمی نظام مزید درہم برہم اور برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

Comments
Post a Comment
Any