فصل کی کاشت
تحریر: مسعود حسین جعفری
مکافات عمل اسی کا نام ہے کہ جو بیج بویا گیا ہے اسی کی کاشت بھی کرنی پڑ رہی ہے قانون قدرت نے اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی کہ مخلوق بیج بیگن کا بوئے اور فصل تربوز کی کاٹے۔
آج زبان سے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ مکافات عمل کا ہی حصہ ہے بس فرق اتنا ہے کہ کل کا بدزبان آج کا حمایتی بن چکا ہے جس پر سات خون بھی معاف ہیں۔ مدتوں سے بدزبانی کرنے والوں کو آج اپنے مخالفین کی بدزبانی محسوس ہوئی تو مردہ کفن پھاڑ کر چیخ اٹھا۔
تمام ریکارڈز دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں کہ آغاز سے لے کر تادم تحریر تک کون کون سے مرد و زن ہیں جنہوں نے اپنے سروں پر بے ہودگی لاد رکھی ہے زیادہ پرانی بات نہیں صرف اسمبلی کے اجلاس اور ان میں ہونے والی تقاریر ہی سن لی جائیں تو پاکستانی عوام کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔
دنیا میں جب کبھی پاکستان کی بربادی کی وجوہات پر غور کیا گیا تو یہی گھسی پٹی خاندانی ملوکیت کا نام آیا۔ آج جب ان کو ان ہی کی زبان میں کھل کر جواب مل رہیں ہیں تو پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئ دولت نکلوانے والوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تکلیف ہورہی ہے جن کا پیٹ پھاڑا جارہا تھا جن کا گریباں پکڑ کر گوالمنڈی کی سڑکوں پر کھینچا جارہا تھا۔ آج سارے منافقین مکافات عمل سے گزر رہے ہیں تو کفن و قبر یکساں طور پر پھٹنے کے لیے تیار ہے۔

Comments
Post a Comment
Any