اقتدار کی بھوک بڑی عجیب ہوتی ہے



میرے دوستوں نے پوچھا غم عاشقی کیا ہے
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ

اقتدار کی بھوک بڑی عجیب ہوتی ہے دیگر بیرونی دنیا میں اس بھوک کو مٹانے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد ملک وقوم کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے اور پر خلوص انداز سے تعمیر و ترقی کے مزید نئے راستے دریافت کئے جاتے ہیں۔ جبکہ عرض پاک کی سیاست کا انداز مختلف ہے بھارت جیسے ملکوں میں بھی اقتدار کے حصول کے لیے جو پیمانے بنائے گئے ہیں اس میں سب سے پہلے اپنے ہی ملک وقوم کو برباد کیا جاتا ہے۔ تشدد ہنگامہ خیزی اور شرم ناک الزامات جھوٹی خبریں دھرنا سڑکیں بلاک کرکے ملک وقوم کی املاک کو نقصان پہنچانا یہ سب کچھ عامیانہ سی باتیں رہ گئی ہیں۔
عرض پاک میں سیاست اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لئے ملوکیت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک خاندان کوئ ڈیل کوئ معاہدہ کرکے اقتدار حاصل کرتا ہے تو دوسرا خاندان پہلے سے نئی ڈیل کے لئے تیاری کا آ غا ز کردیتا ہے۔
آ م کی پیٹیاں، افطار پارٹی وغیرہ وغیرہ اس طرح کی سیاسی تقاریب کا اہتمام بندر بانٹ کرنے کرپشن چھپانے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کے عہدوپیماں کرنے اور ملکی وسائل پر مزید کس طرح قبضہ کیا جائے۔ ملکی خزانے سے بیرونی اثاثوں میں کس کس انداز سے اصافہ کیا جائے۔ یہ وہ رہنماں اصول ہیں جو پس پردہ منشور کا حصہ ہوتے ہیں یوں تو اپنے اپنے رائٹ اور لیفٹ ہینڈ کو بچانے جرائم پر پردہ ڈالنے تحفظ دینے یا بیرون ملک سیٹل کرانا بھی اسی منشور کا خاص حصہ ہوتا ہے مگر جگہ کی کمی کی بنا پر فلحال ان چیدہ چیدہ اور آزمودہ سنہری اصولوں کو ہی غنیمت جانا اور سمجھا گیا ہے۔
اقتدار کی ہوس میں اسمبلیوں میں پہنچ جانے والوں کی سوچ تربیت جیسی ہے وہ تو اس قوم کو زبردستی بھگتنا ہی پڑتی ہے۔ اسمبلی صوبائی ہو یا قومی اس میں یکساں طور پر ہنگامے لا حاصل گفتگو بے تکی بحث مباحثے مالکان کی بے جا حمایت موضوع گفتگو بنی ہوتی ہے۔ کہیں سے سلیکٹڈ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تو جواب میں ڈیفکٹڈ کا نعرہ مستانہ بلند کیا جاتا ہے۔ اب یہ بات عوام پر چھوڑ دی جائے کہ کس سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ ویسے تو اگر عوامی رائے کا احترام کیا جائے تو اس احترام کے نتیجے میں سلیکٹڈ سے تو کچھ عوامی امنگیں وامیدیں وابستہ ہوسکتی ہیں کہ شاید قدرتی طور پر ہی سہی کوئ کارنامہ سرزد ہوجائے کیونکہ کرپشن منی لانڈرنگ غبن فنڈز میں خرد برد قومی خزانے سے غیرملکی اثاثے وغیرہ کا اب تک کوئ الزام نہیں آ یا جبکہ ڈیفیکٹڈ اور کرپٹ مافیا سے کسی بھی قسم کی کوئ امید وابستہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئ ایڈز کا مریض موجودہ سندھ حکومت سے دوا کی آرزو لگا بیٹھے یا تھر کے بھوکے پیاسے اپنا حق مانگنا شروع کردیں اسی طرح پنجاب میں کرپٹ خاندانوں کے غیرملکی اثاثے اور جائیداد فروخت کر کے ملکی دولت واپس ملک میں لائ جائے۔ایسے بے تکے بے سروپا خیالات بدہضمی کی علامات ظاہر کرتے ہیں یا با لفظ دیگر مجذوب کی بڑ کہا جاسکتا ہے۔ قدرت کی جانب سے بڑے بڑے معجزے تو ہوسکتے ہیں مگر مندرجہ بالا عوامی حسرتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔
سابقین کی اجارہ داری اقرباپروری اور خاندانی ملوکیت جس طرح بڑے صوبے بھگت رہے ہیں بالکل اسی طرح کی حالت زار صوبہ سندھ کی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پورے ملک سے زیادہ سندھ کا بیڑا غرق ہوا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ سندھ کے سابقین سے لے کر اب تک کوئ احتساب کے لئے تیار نہیں اور عوام کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا گیا کہ وہ سندھ کے بادشاہوں سے کوئ حساب طلب کرسکیں۔ تباہی کا سب سے بڑا ثبوت تھرپارکر ہے اس کے بعد جو ظلم کیا گیا وہ صحت کے شعبے کو برباد کرکے کیا گیا ویسے تو سندھ کا کوئ حصّہ ایسا نہیں جو تباہی کے دھانے پر کھڑا نہ ہو اور کوئ محکمہ ایسا نہیں جو ایک فیصد بھی عوام کے لئے کو کام سر انجام دے رہا ہو تو پھر پیپلز پارٹی کیسے کوئ کام کر سکے گی ؟ صوبے کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ کرپشن کا پیسہ واپس کر کے پیپلز پارٹی اپنے گوٹھ جائے اور اپنے
آ بائ پیشہ کو اختیار کرے تاکہ صوبے میں کچھ تو نحوست کا خاتمہ ہو اور صوبہ خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکے۔




Comments

Politics in Pakistan

واٹر بورڈ شہریوں پر بھاری بھرکم بوجھ بن چکا ہے ! مسعود حسین جعفری

واٹر سپلائی کے کروڑوں کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں، اور ٹینکر مافیا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے! مسعود حسین جعفری

کیا ملک کی باگ ڈور ہمیشہ بیرونی ہاتھوں میں رہے گی ؟

ایران کے عرب ممالک میں اسرائیلی اڈوں پر حملوں نے خطے کا نقشہ بدل دیا، مسعود حسین جعفری

سندھ حکومت پر شہریوں کا 20 برس کا غصہ کیا رنگ لائے گا، مسعود حسین جعفری