Posts

Alliance of political dictators

Image
By: Masood Hussain Jaffri (special thanks from international News Network) The alliance of political dictators also proved to be a killer for the country and the nation. Due to this unnatural union, the heads of the country and the nation bowed with infamy at the world level and a wave of great anger spread. Perhaps the main reason for this is that this unnatural alliance consists entirely of criminal elements. This political alliance includes all the parties that have been in power for a long period of time from generation to generation, commonly known as political dictatorship and monarchy. The same was the case in 2010 and that time also the Chief Minister was Sindh Irrigation Minister. Even then there was a crack in the dam and even today after so many years there is a crack in it. It can be inferred that all the ministers are loyal to their party bosses instead of being loyal to the nation.

سیاسی خاندان اپنی تجوریوں کے منہ کب کھولیں گے ؟

Image
نقصان جب بھی ہوتا ہے ملک و قوم کا ہی کیوں ہوتا ہے سارے کے سارے سیاسی دکاندار ان کے رشتے دار برادری والے سب کے سب ہر طرح کے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں نہ تو سیلابی ریلا ان کی زمینیں برباد کرپاتا ہے اور نہ ہی کسی وبائ مرض میں اتنی ہمت ہے کہ ان کے راستے کی دیوار بنے جب بھی دیکھا ملک و قوم کو تباہی اور ان چند خاندانوں کو پھلتے پھولتے ہی دیکھا چاہیں یہ ملک میں رہیں یا ملک سے باہر قومی خزانے کے منہ بھی ان کے اور ان کے خاندانوں کے لیے پوری طرح کھلے دیکھے اور قوم کے لیے صرف عوام سے چندے کی اپیل بیرونی دنیا سے امداد اور قرض کے لیے سجدے کرنا طرہ امتیاز و باعث فخر ہے۔

اقتدار کی بھوک بڑی عجیب ہوتی ہے

Image
میرے دوستوں نے پوچھا غم عاشقی کیا ہے کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ اقتدار کی بھوک بڑی عجیب ہوتی ہے دیگر بیرونی دنیا میں اس بھوک کو مٹانے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد ملک وقوم کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے اور پر خلوص انداز سے تعمیر و ترقی کے مزید نئے راستے دریافت کئے جاتے ہیں۔ جبکہ عرض پاک کی سیاست کا انداز مختلف ہے بھارت جیسے ملکوں میں بھی اقتدار کے حصول کے لیے جو پیمانے بنائے گئے ہیں اس میں سب سے پہلے اپنے ہی ملک وقوم کو برباد کیا جاتا ہے۔ تشدد ہنگامہ خیزی اور شرم ناک الزامات جھوٹی خبریں دھرنا سڑکیں بلاک کرکے ملک وقوم کی املاک کو نقصان پہنچانا یہ سب کچھ عامیانہ سی باتیں رہ گئی ہیں۔ عرض پاک میں سیاست اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لئے ملوکیت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک خاندان کوئ ڈیل کوئ معاہدہ کرکے اقتدار حاصل کرتا ہے تو دوسرا خاندان پہلے سے نئی ڈیل کے لئے تیاری کا آ غا ز کردیتا ہے۔ آ م کی پیٹیاں، افطار پارٹی وغیرہ وغیرہ اس طرح کی سیاسی تقاریب کا اہتمام بندر بانٹ کرنے کرپشن چھپانے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کے عہدوپیماں کر...

بدنصیب شہر کو خاندانی آمریت سے کیسے نجات ملے گی ؟

Image
بدنصیب شہر کو خاندانی آمریت سے کیسے نجات ملے گی ؟؟؟ عام انتخابات 2008 میں ڈیل اور سودے بازی کے تحت پانچ سال وفاق اور سندھ میں 15 سال تک بلا شراکت غیرے حکومت کرنے والے اب تک ملک و قوم کو ذاتی کمائ کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔ سندھ کے دارالحکومت کی بات کی جائے اور 15 برس کی کارکردگی دیکھی جائے تو کرپشن اور انسانیت سوز مظالم کے سواء کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔ سیاسی آمریت کا تو یہ عالم ہے کہ تمام وسائل سیاسی آمروں کے تابع ہیں۔اس کے علاؤہ عوامی زندگیاں اتنی غیر محفوظ ہوچکی ہیں جس کا سدباب ہی نہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا یہ کہنا ہے کہ مسلسل کئ برس سے سندھ کے مختلف مقامات پر بارش کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ بارشوں کے سلسلے میں انتظامات میں کوتاہی غفلت کی بنا پر 26 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اس سے بڑھ کر غفلت کیا ہوگی کہ سندھ کے دارالحکومت میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ کی گئی۔ بدنصیبی یہ کہ شہر قائد میں معمولی قسم کی بارش بھی ہو جائے تو سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں گھروں میں پانی بھر جانا کرنٹ لگنا گٹروں کا ابل جانا ایک عام سی بات ہے۔ ل...

ملک و ملت کا تحفظ

Image
جس طرح رجیم چینج کے لیے پورے ملک کی  چھوٹی بڑی تمام جماعتوں کو ایک جماعت کے خلاف کھڑا ہونا پڑا تھا بالکل اسی طرح ان ساری چھوٹی بڑی جماعتوں کے خلاف پاکستانیوں کو کھڑا ہونا پڑے گا۔ سیاسی دکانداروں کے سیاہ چہرے عوام کے سامنے آ چکے ہیں اب کوئ ابہام باقی نہیں بچا یہ سب کے سب اپنے اور اپنی اولادوں کے لیے ملک و ملت کو داؤ پر لگا رہے ہیں ان کے مذموم عزائم کو سمجھتے ہوئے ہر حال میں ان کے راستے میں ہمیشہ کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اشد ضرورت ہے اس وقت پاکستانی قوم کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے۔ ماضی سے اب تک ایک طویل مدت کا سفر طے  کیا ہے ان سیاسی آمروں کی وجہ سے ۔  ملک و  ملت کو بری طرح مقروض کر کے خود بری الزمہ ہو گئے ہیں یہ لوگ۔ ان کی جائیدادوں کا تخمینہ لگایا جائے تو ملک و ملت پر چڑھے قرض سے کئ گنا زیادہ نظر آئے گی۔ یہ وہی جائیدادیں ہیں جو قومی خزانہ برباد کر کے اور بیرونی قرضوں کی رقم سے بنائیں گئی۔ ان جائیدادوں میں قومی خزانہ قرضوں اور امداد کی رقمیں ہی نہیں بلکہ قوم کا خون بھی شامل ہے جسے بڑی بےدردی ہے چوسا گیا ہے۔

دستور آمریکہ اور انسانی حقوق

Image
ہم نے پہلے دستور پاکستان کے چند ایسے آرٹیکیلز تحریر کیے جو انسانی حقوق سے متعلق بنائے گئے مگر افسوس اس بات پر کہ ہر با اثر شخصیت ان قوانین سے انحراف کرتی نظر آتی ہیں باالخصوص ایسی خاندانی سیاسی جماعتیں جو عوام کو آئین کے درس دیتی نہیں تھکتی ان میں آئین قانون و دستور پر عمل کا کھلا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک جمہوری مملکت میں خاندانی سیاست کو آمریت اور ملوکیت سمجھا جاتا ہے مگر عرض پاک میں سیاست خاندانی آمریت سے شروع کی جاتی ہے جو نسل در نسل ملوکیت کا روپ دھار کر انسانی حقوق غضب کر لیتی ہے۔ امریکہ میں آسمانی حقوق کی پاسداری کے لیے ایسے قوانین ترتیب دیے گئے ہیں جس کی بدولت انسانی حیات کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے جیسا کہ امریکی آئین لوگوں کو وسیع پیمانے پر حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس قانون پر سختی اور بلا روک ٹوک عمل کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب کانگریس پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ کانگریس کوئ قانون نہیں بنائے گی جس کی رو سے کسی مذہب کا قیام عمل میں آئے یا کسی مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روکا جائے۔ تقریر اور پریس کی مکمل ازادی۔ آزادی اجتماع اور حکومت سے شکایت دور کرنے کی ضمانت آئین میں موجود ہے۔...

زندگی کا تحفظ

Image
آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو زندگی  اور آزادی کا پیدائشی حق حاصل ہے جسے آئین بھی تسلیم کرتا ہے اور حکومت پر زمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کی بہتر زندثکے لیے انتظامات کرے اس عرض سے پولیس اور دیگر دوسرے محکمے موجود ہوتے ہیں جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے رات دن مصروف رہتے  ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 24 کے تحت کسی شہری کو اس کی قانونی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان میں ہر شہری کو خریدنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا حق ہے۔ حکومت اس حق کی پوری طرح حفاظت کرتی ہے البتہ جائیداد کا قانونی انداز میں حاصل کیا جانا ضروری ہے جائیداد کے سلسلے میں 1973 کے آئین میں درج ہے کہ اگر حکومت قومی ضرورت کے لیے چاہے وہ کسی فرد کی جائیداد کو اسکی ملکیت سے نکال کر قومی ملکیت میں لے سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ قومیائ گئ جائیداد کا مناسب معاوضہ شہری کو دیا جائے قانون کی باقاعدہ اجازت کے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نگاہ میں یکساں ہیں پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی سمجھتا ہے وہ کسی قسم کی تفریق یا امتیاز روا نہیں رکھت...